مصیبت یا انعام

اس کا نام ولیم تھا اور وہ پیشے کے لحاظ سے ایک انجنیئر تھا مگر ساتھ ہی شکار کا شوقین بھی تھا۔اکثراس کی چھٹی کا سارا دن جنگل میں گزر جاتا ۔ شمالی کیرولینا میں مزے سے زندگی گزار رہا تھا ۔ 1934ء میں جب جنگ عظیم دوئم اپنے زوروں پر تھی ایسے ہی ایک چھٹی والے دن جب وہ جنگل میں شکار کیلئے پہنچا اور شکار کی تلاش شروع کی ، کچھ ہی دیر بعد ایک فائر کی آواز گونجی شاید کوئی اور بھی شکاری وہاں موجود تھا، وہ اسی سمت میں روانہ ہوگیا ۔ تھوڑی دو ر جا کر ہی اس کو کوئی چیز زمین پر پڑ ی دکھائی دی ۔ جب وہ نزدیک پہنچا تو کسی کی تازہ لاش پڑی تھی ، جیسے اس کو ابھی گولی ماری گئی ہو۔ ابھی وہ پریشانی سےاِدھر اُدھر دیکھ ہی رہا تھا کہ پولیس آگئی ، لاش کے پاس کھڑے آدمی کے ہاتھ میں بندوق دیکھ کر پولیس نے بھی زیادہ سوچ بچار کی کوشش نہ کی اور اسی کو قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا ۔ ولیم کی بدقسمتی یہیں تک ہی نہ رہی ، اس کی بیگناہی کاکوئی ثبوت نہ تھا لہٰذا عدالت نے ولیم کو آٹھ سا ل قید کی سزا سنا کرولیم کو جیل روانہ کردیا ۔

جیل میں ولیم کے پاس دو آپشنز تھے یا تو وہ چپ چاپ شرافت سے اپنی سزا پوری کرتا اور رہا ہوکر کہیں اور نکل جاتا یا پھر کوئی کام سیکھتا اور رہا ہونے تک اسی کام میں مصروف رہ کر وقت کاٹتا۔ ولیم نے دوسرے آپشن کو اختیار کیا اور اپنے انجنیئرنگ کے کام میں ہی آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے جیل میں گن بنانے کا کام شروع کردیا ۔ آپ نے دوسری جنگ عظیم کی فلمیں اور تصاویر توو دیکھی ہی ہوں گی ۔ان میں آپ کو امریکی سپاہی اپنے کاندھے پر کاربین گنیں لئے کھڑے نظر آئیں گے جی ہاں یہ کاربین گن ولیم نے جیل میں ہی بیٹھ کر ایجاد کی تھی۔ اس سے سے پہلے بندوق میں ایک وقت میں ایک ہی گولی ڈالی جاتی تھی مگر ولیم نے پسٹن ایجاد کرلیا جو کہ گولی کو چیمبر میں آگے بڑھانے کے کام آتا تھااور گولی خود بخود آگے بڑھ جاتی تھی اور پیچھے والی گولی خود بخود آگے آجاتی تھی۔ یہ ایک بہت بڑی حیرت ناک ایجاد تھی ۔ یہاں سے آٹو میٹک گنز کا دورشروع ہوا یہ خبر جب کیرولینا کے کمشنر کے پاس پہنچی تو یہ گن ہر طریقے سے چیک کی گئی اور بعد ازاں اسے دوسری جنگ عظیم کے محازوں پر بھیج دیا گیا ۔ کاربین کو انتہائی کامیاب پایا گیا ۔ ولیم کے اس کارنامے پر پورے امریکہ کو فخر تھا اب وہ ایک قیدی نہ تھا بلکہ ایک ہیرو تھا جس کی بناء پر اس کی سزا معاف کردی گئی اور اسے باعزت بری کردیا گیا۔ر

اس دنیا میں ہر کسی کو کسی نہ کسی آزمائش یا مصیب سے گزرنا پڑتا ہے ۔ اب یہ اس کا کام ہے کہ وہ یا تو اس وقت کو رو پیٹ کر کاٹ دے اور دوسروں کی طرف مدد کیلئے چیخ و پکار کرے جس سے اس کی مصیبت کم ہوجائے یا پھر اس مصیبت کو انعام سمجھ کر اپنے اندرجھانکے اپنی کمیوں کوتاہیوں کو دیکھے اور یہ سمجھنے کی کوشش کرے کہ وہ انسانیت کیلئے کیا کرسکتا ہے ۔ آپ یقین کریں جس دن آپ نے مصیبت کو مصیبت نہ سمجھا بلکہ ایک انعام سمجھ کر اپنے آپ کو پہچاننے کی کوشش کی اسی وقت وہ مصیبت آپ کیلئے انعام بن جائے گی ۔ وہ کہتے ہیں ناں کہ مصیبت اور تکلیف میں ہی انسان کی پہچان ہوتی ہے جی وہ یہی پہچان ہے کہ آپ اس مصیبت میں اپنے آپ کو کیسے بلند کرتے ہیں۔

(Copied)

Out for food

Hi,

Some days before I had to go in a dinner party one of my friend. In fact it was a little gathering, but afterward it came into a simple and small dinner party. Rice with species were served. It is called Kabuli Plao with carrots, walnuts, almonds etc. I ate it first time and it was very delicious and could not stopped my hands to eat.

Create your website at WordPress.com
Get started